Ahmad Faraz Poetry & Ghazal All Best Collection In Urdu 2021

Assalam 0 Alaiikum Friends, Today I Will Show You  ahmad Faraz Poetry & Ghazal Collection. Syed Ahmad Shah (urdu: سید احمد شاہ‎), Better Known By His Pen Name Ahmed Faraz, (urdu: احمد فراز‎ 12 January 1931 – 25 August 2008)was A Pakistani Urdu Poet, Scriptwriter And Chairman Of Pakistan Academy Of Letters. He Wrote His Poetry Under Pseudonym Faraz.[a] During His Lifetime, He Criticised Military Rule And Coup D’état In The Country And Was Displaced By The Military Dictators.[4] He Was Awarded The Sitara-i-imtiaz And Hilal-e-imtiaz. On 25 August 2008, He Died In Islamabad, And Later Government Of Pakistan Conferred Hilal-e-pakistan Posthumously Upon Faraz For His Contribution To Poetry And Urdu Literature.

Ahmad Faraz Poetry & Ghazal All Best Collection In Urdu 2021

Ahmad Faraz Poetry & Ghazal All Best Collection In Urdu 2021

Ahmad Faraz Poetry All Collection

My favorite ghazal of all time. New quotes poetry … AhMeD FaRaZ !!!!!! Poetry: Ahmad Faraz Poetry Collection in Urdu Font Images fo Poetry Books, Poetry Text.Ahmad Faraz collection of poetry, ghazal, Nazm in Urdu, Hindi & English. Read more about Ahmad Faraz and access their famous audio, video, and ebooks.”Urdu Poet Ahmed Faraz Shayari احمد فراز کی شاعری, Read Urdu Poetry of Ahmed Faraz, read large collection of Ahmed Faraz Ghazals, Nazams and Poems.

چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فرازؔ

دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے

 

ہمیں بھی عرض تمنا کا ڈھب نہیں آتا
مزاج یار بھی سادہ ہے کیا کیا جائے

 

ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

 

میری خاطر نہ سہی اپنی انا کی خاطر
اپنے بندوں سے تو پندار خدائی لے لے

 

کس کو بکنا تھا مگر خوش ہیں کہ اس حیلے سے
ہو گئیں اپنے خریدار سے باتیں کیا کیا

 

ساقی یہ خموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے
ساقی ترے مے خوار بڑی دیر سے چپ ہیں

 

تیرے قامت سے بھی لپٹی ہے امر بیل کوئی

میری چاہت کو بھی دنیا کی نظر کھا گئی دوست

 

چلے تھے یار بڑے زعم میں ہوا کی طرح
پلٹ کے دیکھا تو بیٹھے ہیں نقش پا کی طرح

 

طعنۂ نشہ نہ دو سب کو کہ کچھ سوختہ جاں
شدت تشنہ لبی سے بھی بہک جاتے ہیں

 

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

(Ahmad Faraz)

<—————————————>

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
فرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں

جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر
کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں

رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو
سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں

تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا
یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں
جو لالچوں سے تجھے مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں

یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے
ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں

نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی
سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں

یہ کون ہے سر ساحل کہ ڈوبنے والے
سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں

ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئے
ہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں

بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اس کی خیر خبر
چلو فرازؔ کوئے یار چل کے دیکھتے ہیں

(Ahmad Faraz)

Ahmad Faraz Ghazal All Collection

Ahmad Faraz Ghazal All Collection

Ahmad Faraz Ghazals available in Hindi, Urdu and Roman scripts. Access to ghazal videos, audios & Ebooks of Ahmad Faraz.Ahmad Faraz Poetry: Latest collection of Ahmad Faraz poetry in urdu, Ahmad … Ahmed Faraz shayari and ghazals is popular among people who love to read good … his poetry with Faiz Ahmad Faiz as he holds unique value among all famous Ghazals .

حشت دل صلۂ آبلہ پائی لے لے

مجھ سے یارب مرے لفظوں کی کمائی لے لے

عقل ہر بار دکھاتی تھی جلے ہاتھ اپنے

دل نے ہر بار کہا آگ پرائی لے لے

میں تو اس صبح درخشاں کو تونگر جانوں

جو مرے شہر سے کشکول گدائی لے لے

تو غنی ہے مگر اتنی ہیں شرائط تیری

وہ محبت جو ہمیں راس نہ آئی لے لے

ایسا نادان خریدار بھی کوئی ہوگا

جو ترے غم کے عوض ساری خدائی لے لے

اپنے دیوان کو گلیوں میں لیے پھرتا ہوں

ہے کوئی جو ہنر زخم نمائی لے لے

میری خاطر نہ سہی اپنی انا کی خاطر

اپنے بندوں سے تو پندار خدائی لے لے

اور کیا نذر کروں اے غم دل دار فرازؔ

زندگی جو غم دنیا سے بچائی لے لے

(Ahmad Faraz)

<—————————————>

ہم تو خوش تھے کہ چلو دل کا جنوں کچھ کم ہے

اب جو آرام بہت ہے تو سکوں کچھ کم ہے

رنگ گریہ نے دکھائی نہیں اگلی سی بہار

اب کے لگتا ہے کہ آمیزش خوں کچھ کم ہے

اب ترا ہجر مسلسل ہے تو یہ بھید کھلا

غم دل سے غم دنیا کا فسوں کچھ کم ہے

اس نے دکھ سارے زمانے کا مجھے بخش دیا

پھر بھی لالچ کا تقاضا ہے کہوں کچھ کم ہے

راہ دنیا سے نہیں دل کی گزر گاہ سے آ

فاصلہ گرچہ زیادہ ہے پہ یوں کچھ کم ہے

تو نے دیکھا ہی نہیں مجھ کو بھلے وقتوں میں

یہ خرابی کہ میں جس حال میں ہوں کچھ کم ہے

آگ ہی آگ مرے قریۂ تن میں ہے فرازؔ

پھر بھی لگتا ہے ابھی سوز دروں کچھ کم ہے

(Ahmad Faraz)

<—————————————>

ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے

کہ ہم کو دست زمانہ سے زخم کاری لگے

اداسیاں ہوں مسلسل تو دل نہیں روتا

کبھی کبھی ہو تو یہ کیفیت بھی پیاری لگے

بظاہر ایک ہی شب ہے فراق یار مگر

کوئی گزارنے بیٹھے تو عمر ساری لگے

علاج اس دل درد آشنا کا کیا کیجے

کہ تیر بن کے جسے حرف غم گساری لگے

ہمارے پاس بھی بیٹھو بس اتنا چاہتے ہیں

ہمارے ساتھ طبیعت اگر تمہاری لگے

فرازؔ تیرے جنوں کا خیال ہے ورنہ

یہ کیا ضرور وہ صورت سبھی کو پیاری لگ

(Ahmad Faraz)

<—————————————>

منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا
بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا

رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی
خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا

کیسے پایا تھا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے
مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا

جس طرح بادل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے
میں نے یہ عالم بھی دیکھا ہے تری تصویر کا

جانے کس عالم میں تو بچھڑا کہ ہے تیرے بغیر
آج تک ہر نقش فریادی مری تحریر کا

عشق میں سر پھوڑنا بھی کیا کہ یہ بے مہر لوگ
جوئے خوں کو نام دے دیتے ہیں جوئے شیر کا

جس کو بھی چاہا اسے شدت سے چاہا ہے فرازؔ
سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا

(Ahmad Faraz)

<—————————————>

جب یار نے رخت سفر باندھا کب ضبط کا پارا اس دن تھا
ہر درد نے دل کو سہلایا کیا حال ہمارا اس دن تھا

جب خواب ہوئیں اس کی آنکھیں جب دھند ہوا اس کا چہرہ
ہر اشک ستارہ اس شب تھا ہر زخم انگارہ اس دن تھا

سب یاروں کے ہوتے سوتے ہم کس سے گلے مل کر روتے
کب گلیاں اپنی گلیاں تھیں کب شہر ہمارا اس دن تھا

جب تجھ سے ذرا غافل ٹھہرے ہر یاد نے دل پر دستک دی
جب لب پہ تمہارا نام نہ تھا ہر دکھ نے پکارا اس دن تھا

اک تم ہی فرازؔ نہ تھے تنہا اب کے تو بلا واجب آئی
اک بھیڑ لگی تھی مقتل میں ہر درد کا مارا اس دن تھا

(Ahmad Faraz)

<—————————————>

جسم شعلہ ہے جبھی جامۂ سادہ پہنا
میرے سورج نے بھی بادل کا لبادہ پہنا

سلوٹیں ہیں مرے چہرے پہ تو حیرت کیوں ہے
زندگی نے مجھے کچھ تم سے زیادہ پہنا

خواہشیں یوں ہی برہنہ ہوں تو جل بجھتی ہیں
اپنی چاہت کو کبھی کوئی ارادہ پہنا

یار خوش ہیں کہ انہیں جامۂ احرام ملا
لوگ ہنستے ہیں کہ قامت سے زیادہ پہنا

یار پیماں شکن آئے اگر اب کے تو اسے
کوئی زنجیر وفا اے شب وعدہ پہنا

غیرت عشق تو مانع تھی مگر میں نے فرازؔ
دوست کا طوق سر محفل اعدا پہنا

(Ahmad Faraz)

<—————————————>

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی

اہل محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا
میں بھی خاموش رہا اس نے بھی پرسش نہیں کی

جس قدر اس سے تعلق تھا چلے جاتا ہے
اس کا کیا رنج ہو جس کی کبھی خواہش نہیں کی

یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے
اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی

اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا
اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی

ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں
ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی

اے مرے ابر کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں
کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی

کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے
مقتل شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی

وہ ہمیں بھول گیا ہو تو عجب کیا ہے فرازؔ
ہم نے بھی میل ملاقات کی کوشش نہیں کی

(Ahmad Faraz)

<—————————————>

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی

اہل محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا
میں بھی خاموش رہا اس نے بھی پرسش نہیں کی

جس قدر اس سے تعلق تھا چلے جاتا ہے
اس کا کیا رنج ہو جس کی کبھی خواہش نہیں کی

یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے
اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی

اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا
اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی

ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں
ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی

اے مرے ابر کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں
کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی

کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے
مقتل شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی

وہ ہمیں بھول گیا ہو تو عجب کیا ہے فرازؔ
ہم نے بھی میل ملاقات کی کوشش نہیں کی

(Ahmad Faraz)

<—————————————>

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا

اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا

زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائے گا

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فرازؔ
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا

(Ahmad Faraz)

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا

آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا

شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا

اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا

دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا

اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس
کبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا

جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا
اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا

اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

(Ahmad Faraz)

<—————————————>

 

Leave a Comment